اگر کسی آدمی کو یہ یقین ہے کے وہ جتنی مرتبہ مرضی اپنے دوست سے جھگڑا کرے گا تو اسکا دوست اسکو منا لے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں کے وہ دوست جو اس آدمی کو بار بار مناتا ہے وہ غلط تھا بلکہ اسکو انا سے زیادہ رشتے عزیز ہے .
رشتے پودوں کی طرح ہوتے ہیں،
پودوں کواگرپانی نہ ملے،تو مرجھا جاتے ہیں،
بلکل اسی طرح سے رشتوں کواگر پیار نہ ملے تووہ بھی مرجھاجاتے ہیں. . . . . .
جب کسی ایک کی راہنُمائی ہوتی ہے تو ساتھ کئی اور بھی فیض پاتے ہیں۔ جیسے قرآن ایک حفظ کرتا ہے، اِرد گِرد بخشے کئی جاتے ہیں۔ شادی ایک کی ہوتی ہے، خوش دوسرے اور زردہ پلاؤ کئی اُڑاتے ہیں۔ قوّالی کسی ایک کے ہاں ہوتی ہے مگر سنتے بہت سے ہیں۔